5 اشعار

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

Zakhm ke phool se taskeen talab karti hai

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

«زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہےبعض اوقات مری روح غضب کرتی ہے

جو تری زلف سے اترے ہوں مرے آنگن میںچاندنی ایسے اندھیروں کا ادب کرتی ہے

اپنے انصاف کی زنجیر نہ دیکھو کہ یہاںمفلسی ذہن کی فریاد بھی کب کرتی ہے

صحن گلشن میں ہواؤں کی صدا غور سے سنہر کلی ماتم‌ صد جشن طرب کرتی ہے

صرف دن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے محسنؔزندگی زلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے

— محسن نقوی