8 اشعار

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

Zikr-e-shab-e-firaaq se wahshat use bhi thi

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی

«ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھیمیری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کارستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگومصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخصحالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیاورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاںشاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھیدسائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دلدرپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

— محسن نقوی