4 اشعار

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا

«میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا» محسن نقوی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گایہ ٹھیک کہتے ہو بے وفا ہوں وفا کروں گا تو کیا کروں گا

بس ایک تو ہی تو رہ گیا ہے جہاں سارے کو کھو چکا ہوںتجھے بھی اپنی آنا میں آ کر خفا کروں گا، تو کیا کروں گا

ہزار سجدے تو کر چکا ہوں قضا تمہاری محبتوں میںمیں اب دکھاوے کا کوئی سجدہ ادا کروں گا تو کیا کروں گا

بغیر پانی بھی کوئی مچھلی بھلا کبھی رہ سکتی ہے محسنمیں تجھ کو کھو کر کسی کا ہو کر بتا کروں گا تو کیا کروں گا

— محسن نقوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں