9 اشعار

گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا

Gila nahin ke mukhalif mera zamana hua

گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا

«گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوامیں خود ہی چھوڑ کے کار جہاں روانہ ہوا

میں اب چلا کہ مرا قافلہ روانہ ہواکبھی پھر آؤں گا واپس جو آب و دانہ ہوا

میں بالمشافہ نہیں جانتا کسی کو یہاںکہ مجھ سے میرا تعارف بھی غائبانہ ہوا

ہوائے گل بھی نہ پیروں کی بن سکی زنجیربہار میں بھی نہ اب کے کوئی دوانہ ہوا

جو ریگ زیر قدم آئی بن گئی سبزہغبار سر پہ جو آیا تو شامیانہ ہوا

کسی کو نوک سناں بھی ضمیر کی نہ چبھیکسی کو ایک اشارہ ہی تازیانہ ہوا

زمانہ کھنچ کے نہ کیوں اس کے پاس جائے گاوہ عالی جاہ ہوا صاحب خزانہ ہوا

برس رہی ہے مری چشم نم تو برسوں سےتہی نہ ابر گہربار کا خزانہ ہوا

نظر میں سب کا یہ منظر سمیٹ لو محسنؔسحر قریب ہے اب ختم یہ فسانہ ہوا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں