9 اشعار

ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا

Har roz naya hashr sar-e-raah guzar tha

ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا

«ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھااب تک کا سفر ایک قیامت کا سفر تھا

اندازۂ حالات تھا پہلے ہی سے مجھ کودرپیش جو اب ہے وہ مرے پیش نظر تھا

سنتے ہیں کہ آباد یہاں تھا کوئی کنبہآثار بھی کہتے ہیں یہاں پر کوئی گھر تھا

طے ہم نے کیا سارا سفر یک و تنہاجز گرد سفر کوئی نہ ہم راہ سفر تھا

صد حیف کئی لوگ گئے جاں سے مرے ساتھقاتل کو تو مطلوب فقط میرا ہی سر تھا

میری ہی طرح جاں سے گزر کر چلے آتےکچھ اس سے زیادہ تو نہ رستے میں خطر تھا

رہتا تھا کبھی میری نگاہوں میں شب و روزاک وقت تھا جب وہ مرا محبوب نظر تھا

کیا وہ کوئی جھونکا تھا نسیم سحری کایا رہ گزر خواب پہ خوشبو کا سفر تھا

ہم جا کے کہاں بادیہ پیما ہوئے محسنؔجس دشت میں سبزہ نہ کہیں کوئی شجر تھا

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں