ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا
کلام: محسن زیدی
ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھااب تک کا سفر ایک قیامت کا سفر تھا
اندازۂ حالات تھا پہلے ہی سے مجھ کودرپیش جو اب ہے وہ مرے پیش نظر تھا
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھااب تک کا سفر ایک قیامت کا سفر تھا
اندازۂ حالات تھا پہلے ہی سے مجھ کودرپیش جو اب ہے وہ مرے پیش نظر تھا
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہےوہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے
سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگیرب کریم ہے تو تری رہ گزر میں ہے