چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
کلام: محسن زیدی
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھیپھر وہی میں تھا وہی رات کی تنہائی تھی
چڑھتے سورج کی توجہ رہی ساری اس پارروشنی کی تو ادھر صرف جھلک آئی تھی
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھیپھر وہی میں تھا وہی رات کی تنہائی تھی
چڑھتے سورج کی توجہ رہی ساری اس پارروشنی کی تو ادھر صرف جھلک آئی تھی
کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگاکچھ تو اس کو برا لگا ہوگا
آگے جا کر ٹھہر گیا ہوگاوہ مری راہ تک رہا ہوگا