ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں
کلام: محسن زیدی
ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںیہ میں کہاں ہوں کیسی پریشانیوں میں ہوں
اک پل کو بھی سکون سے جینا محال ہےکن دشمنان جاں کی نگہبانیوں میں ہوں
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوںیہ میں کہاں ہوں کیسی پریشانیوں میں ہوں
اک پل کو بھی سکون سے جینا محال ہےکن دشمنان جاں کی نگہبانیوں میں ہوں
یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوایہ بیاں جو ہے مرے نام سے یہ بیاں ہے اس کا لکھا ہوا
وہی میلی میلی سی چاندنی وہی دھندلی دھندلی سی روشنییہ چراغ کوئی چراغ ہے نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیںتمام عمر کی لادی تھکن اتارتے ہیں
وہ میری ذات سے یوں منحرف ہوا جیسےکسی قمیض سے ، ٹوٹے بٹن اتارتے ہیں