9 اشعار

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

Dil mein tere jo koi ghar kar gaya

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

«دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیاسخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا

وہم غلط کار نے دل خوش کیاکس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا

جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یاردل تو مرا زور جگر کر گیا

رات ملا تھا مجھے تنہا رقیبیار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا

فیض ترے وصف بنا گوش کااپنے سخن کو تو گہر کر گیا

دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلیلب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا

کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میںدرد مرے پہلو میں گھر کر گیا

نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دلجان کا اپنی میں ضرر کر گیا

اور غزل اب کوئی سودا تو کہہیہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں