7 اشعار

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

Har sang mein sharaar hai tere zahoor ka

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

«ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا

پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پرجلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا

توڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہےہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا

بیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مراگویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا

ہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہےاے ہم صفیر فائدہ ناحق کے شور کا

ساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گردے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا

سوداؔ کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگوآوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں