9 اشعار

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

Chehre pe na yeh naqaab dekha

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

«چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھاپردے میں تھا آفتاب دیکھا

کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کےیوسف کی طرح میں خواب دیکھا

کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالماس کے لیے یاں خراب دیکھا

دل تو نے عبث لکھا تھا نامہجو ان نے دیا جواب دیکھا

بے جرم و گناہ قتل عاشقمذہب میں ترے صواب دیکھا

کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحتہستی میں تو ہم عذاب دیکھا

جس چشم نے مجھ طرف نظر کیاس چشم کو میں پر آب دیکھا

حیران وہ تیرے عشق میں ہےیاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا

بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کاسوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں