11 اشعار

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں

Gada dast-e-ahl-e-karam dekhte hain

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں

«گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیںہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں

نہ دیکھا جو کچھ جام میں جم نے اپنےسو یک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں

یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاریتجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں

غرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلبتماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

حباب لب جو ہیں اے باغباں ہمچمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں

نوشتے کو میرے مٹاتے ہیں رو روملائک جو لوح و قلم دیکھتے ہیں

مٹا جائے ہے حرف حرف آنسوؤں سےجو نامہ اسے کر رقم دیکھتے ہیں

اکڑ سے نہیں کام سنبل کی ہم کوکسی زلف کا پیچ و خم دیکھتے ہیں

خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھائےجو کچھ دوست سے اپنے ہم دیکھتے ہیں

ستم سے کیا تو نے ہم کو جو خوگرکرم سے ترے ہم ستم دیکھتے ہیں

مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سوداؔاسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں