5 اشعار

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا

Us ka naqsha ek be-tarteeb afsane ka tha

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا

«اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا

سارے کرداروں میں بے رشتہ تعلق تھا کوئیان کی بے ہوشی میں غم سا ہوش آ جانے کا تھا

عشق کیا ہم نے کیا آوارگی کے عہد میںاک جتن بے چینیوں سے دل کو بہلانے کا تھا

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہتشوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

لے گیا دل کو جو اس محفل کی شب میں اے منیرؔاس حسیں کا بزم میں انداز شرمانے کا تھا

— منیرنیازی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں