19 اشعار

دوراہا

Dobaha

دوراہا

«دوراہا» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوتآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے

جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہےان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی

سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگرجاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاش

اس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہکسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا

ایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میںایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا

ہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گامیں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفا

چارہ سازی ترے ناخن کی رہین منتغم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہے

ایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہیایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے

لذت عارض و لب ساعت تکمیل وصالمیری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے

دیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اکتا کرآج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے

ایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کرآدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا

گیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کےآج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے

یہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپنسوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے

آدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتےبیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے

دیر سے روح پہ اک خواب گراں طاری ہےآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے

آج پھر دوش تمنا پہ ہے دل کا تابوتجاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت

ورنہ انسان کی فطرت کا تلون مت پوچھاس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ

آدمی تیری اس افتاد سے بد دل ہو کراور دو چار خداؤں کے علم پوجے گا

اور اک روز اس انداز سے بھی اکتا کراپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں