4 اشعار

یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے

Yeh ghuta ghuta toofan, yeh thami thami barish rubaru na reh jaye

یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے

«یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائےآج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے

دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھواس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے

صبح و شام کی الجھن ، رات دن کے ہنگامے روز روز کا جھگڑادیکھ پیر میخانہ آج میں نہ رہ جاؤں یا سبو نہ رہ جائے

اپنا غم نہ اس کا اس کا غم ڈوبتی ہوئی لَو کو فکر ہے تو اس کی ہےدربدر نہ رسوا ہو حسرتوں کا افسانہ کو بہ کو نہ رہ جائے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں