ایک شام
کلام: مصطفی زیدی
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میںاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
موم بتی کی روشنی میں نظرحافظے کے ورق الٹتی تھی
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میںاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
موم بتی کی روشنی میں نظرحافظے کے ورق الٹتی تھی
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوتآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہےان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگی