6 اشعار

شہناز

Shehnaz

شہناز

«شہناز» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کےایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی

میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہرجس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی

تُونے جس لہر کی صورت سے مجھے چاہا تھاساز میں بھی نہ تھی وہ بات ، صبا میں بھی نہ تھی

اور اب یوں ہے کہ جیسے کبھی رسم ِ اخلاصمہہ نشینوں میں تو کیا ، ہم فقرا میں بھی نہ تھی

بےوفائی کی یہ مشترکہ نئی آسائشدلِ پُرخون میں بھی اور رنگِ حنا میں بھی نہ تھی

نہ تو شرمندہ ہے دل اور نہ حنا خوار اب کےجس طرح ترکِ تعلُّق پہ ہے اصرار اب کے

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں