5 اشعار

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا

Dard dil bhi gham-e-dauran ke barabar se utha

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا

«درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا

تابش حسن بھی تھی آتش دنیا بھی مگرشعلہ جس نے مجھے پھونکا مرے اندر سے اٹھا

کسی موسم کی فقیروں کو ضرورت نہ رہیآگ بھی ابر بھی طوفان بھی ساغر سے اٹھا

بے صدف کتنے ہی دریاؤں سے کچھ بھی نہ ہوابوجھ قطرے کا تھا ایسا کہ سمندر سے اٹھا

چاند سے شکوہ بہ لب ہوں کہ سلایا کیوں تھامیں کہ خورشید جہاں تاب کی ٹھوکر سے اٹھا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں