5 اشعار

ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا

Har Ek Ne Kaha Kyun Tujhe Aaram Na Aaya

ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا

«ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیاسنتے رہے ہم لب پہ ترا نام نہ آیا

دیوانے کو تکتی ہیں ترے شہر کی گلیاںنکلا تو ادھر لوٹ کے بد نام نہ آیا

مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرےیہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا

کیا جانیے کیا بیت گئی دن کے سفر میںوہ منتظر شام سر شام نہ آیا

یہ تشنگیاں کل بھی تھیں اور آج بھی زیدیؔاس ہونٹ کا سایہ بھی مرے کام نہ آیا

— مصطفی زیدی