26 اشعار

رات سنسان ہے

Raat Sunsaan Hai

رات سنسان ہے

«رات سنسان ہے» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموشاپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے

میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کوسالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے

جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پرجس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص

جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیںلوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ہیں

میری تنہائی کے احساس کو زائل کرنےجس کی دیواریں مرے پاس چلی آتی ہیں

سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریںاکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیں

جیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوںمیرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونس

آج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہےاپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوض

آج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوںگرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوش

میرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیںجیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیں

اپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیںیہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آج

کیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قولسنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں

تو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دلتو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہے

تو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دےلکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیں

مجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پرمیرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ

میری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہےمیں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا

تو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہےاور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا

اسی آئینے نے دیکھے ہیں ہمارے جھگڑےیہی زینہ ہے جہاں میں نے اسے چوما تھا

ان قمیضوں میں ان الجھے ہوئے رومالوں میںاس کے بالوں کی مہک آج بھی آسودہ ہے

جو کبھی میری تھی انکار پہ بھی میری تھیاب فقط بزم تصور میں نظر آتی ہے

رات بھر جاگ کے لکھی ہوئی تحریروں سےاب بھی ان آنکھوں کی تصویر ابھر آتی ہے

چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پراوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملے

کس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہجیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکا

اے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھلیہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا

صبح کیا جانے کہاں ہوتی ہے کب ہوتی ہےجانے انسان نے کس وقت یہ نعمت پائی

میری قسمت میں بس اک سلسلۂ شام و سحرمیرے کمرے کے مقدر میں فقط تنہائی

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں