سفر آخر شب
کلام: مصطفی زیدی
بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گلکسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا
کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والوخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
بہت قریب سے آئی ہوائے دامن گلکسی کے روئے بہاریں نے حال دل پوچھا
کہ اے فراق کی راتیں گزارنے والوخمار آخر شب کا مزاج کیسا تھا
میری پلکوں کو مت دیکھوان کا اٹھنا ان کا جھپکنا جسم کا نا محسوس عمل ہے
میری آنکھوں کو مت دیکھوان کی اوٹ میں شام غریباں ان کی آڑ میں دشت ازل ہے
میرے محبوب وطن کی گلیو!تم کو اور اپنے دوستوں کو سلام
اپنے زخمی شباب کو تسلیماپنے بچپن کے قہقہوں کو سلام
جس طرح ترکِ تعلُّق پہ اِصرار اب کےایسی شدّت تو مرے عہد ِ وفا میں بھی نہ تھی
میں نے تو دیدہ و دانستہ پیا ہے وہ زہرجس کی جراؑت صفِ تسلیم و رضا میں بھی نہ تھی