7 اشعار

تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر

Tere karam ne, mujhe kar liya qubool magar

تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر

«تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے طارق نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگرمیرے جُنوں سے ، محبت کا حق ادا نہ ہوا

تیرے غموں نے ، میرے ہر نشاط کو سمجھامیرا نشاط ، تیرے غم سے آشنا نہ ہوا

کہاں کہاں نہ ، میرے پاؤں لڑکھڑائے مگرتیرا ثبات عجب تھا ، کہ حادثہ نہ ہوا

تیرے دُکھوں نے پکارا ، تو میں قریب نہ تھامیرے غموں نے صَدا دی ، تو فاصلہ نہ ہوا

ہزار دَشنہ و خنجر تھے ، میرے لہجے میںتیری زباں پہ کبھی ، حرفِ ناروا نہ ہوا

ہزار شمعوں کا بنتا رہا ، میں پروانہکسی کا گھر تیرے دِل میں ، میرے سِوا نہ ہوا

میری سیاھئ دامن کو ، دیکھنے پر بھیتیرے سفید دوپٹوں کا ، دِل بُرا نہ ہوا

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں