5 اشعار

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

Tere chehre ki tarah aur mere seene ki tarah

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح

«تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح» مصطفی زیدی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)» میں 10 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح

پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی ماننداوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح

اے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والیدوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح

اے مرے غم کو زمانے سے بتانے والیمیں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے کی طرح

تیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گیاب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح

— مصطفی زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں