ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا
ہر اک نے کہا : کیُوں تجھے آرام نہ آیاسُنتے رہے ہم ، لب پہ ترا نام نہ آیا
دیوانے کو تکتی ہیں ترے شہر کی گلیاںنِکلا ، تو اِدھر لَوٹ کے بدنام نہ آیا
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آو (مصطفیٰ زیدی)
مہمان شاعر: مصطفی زیدی
ہر اک نے کہا : کیُوں تجھے آرام نہ آیاسُنتے رہے ہم ، لب پہ ترا نام نہ آیا
دیوانے کو تکتی ہیں ترے شہر کی گلیاںنِکلا ، تو اِدھر لَوٹ کے بدنام نہ آیا
تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیںکس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں
اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گادشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں
کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پررواج نقش قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیںسَر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں
تم سے تو ایک دل کی کلی بھی نہ کِھل سکییہ بھی بلا کشان ِ محبت کے کام ہیں
لوگ کہتے ہیں عشق کا روناگریہ زندگی سے عاری ہے
پھر بھی یہ نا مراد جذبہ دلعقل کے فلسفوں پہ بھاری ہے
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح
پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی ماننداوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہےغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہےفقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے
میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میںافق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تم
تصورات میں تم نے کنول جلائے ہیںوفا کاروپ ہو احساس کا جمال ہو تم
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائےآج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے
دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھواس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے