8 اشعار

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

Ab ke barsaat ki rut aur bhi bharkeeli hai

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

«اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہےجسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے

سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگالوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

شدت کرب میں ہنسنا تو ہنر ہے میراہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے

گرد آنکھوں میں سہی داغ تو چہرے پہ نہیںلفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے

گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہکس کو معلوم کہ یہ قند بھی زہریلی ہے

پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نےاب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

مجھ کو بے رنگ ہی کر دیں نہ کہیں رنگ اتنےسبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے

میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھائےکیا کروں ذہن مظفرؔ مرا جبریلی ہے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں