11 اشعار

سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے

Sambhalne ke liye girna paṛa hai

سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے

«سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 9 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہےہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے

رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیںمیں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے

یہ کیسی روشنی تھی میرے اندرکہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے

مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہوتہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے

حواس و ہوش ہیں بیدار لیکنضمیر انسان کا سویا پڑا ہے

بدن شوقین کم پیراہنی کادر و دیوار پر پردہ پڑا ہے

اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میراگریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے

محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چلبہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے

زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شایدپڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے

ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریںابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے

مظفر رونقوں میلوں کا رسیاہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں