کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
کلام: مظفر وارثی
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلازخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پرڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلازخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پرڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہےجسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے
سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگالوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے