4 اشعار

میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں

Meri tasveer mein rang aur kisi ka to nahin

میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں

«میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے آدرش نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیںگھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں، میں تماشا تو نہیں

زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروںشوق جینے کا ہے مجھ کو، مگر اتنا تو نہیں

روح کو درد مِلا، درد کو آنکھیں نہ مِلیںتجھ کو محسوس کِیا ہے، تجھے دیکھا تو نہیں

سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مراذہن کی تہہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں