6 اشعار

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا

Hum kyun ye kahein koi hamara nahin hota

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا

«ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتاموجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا

دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتیاس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا

سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارےہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا

اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلونپانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ہوتا

سونے کی ترازو میں مرا درد نہ تولوامداد سے غیرت کا گزارا نہیں ہوتا

تم بھی تو مظفرؔ کی کسی بات پہ بولوشاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں