سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
کلام: مظفر وارثی
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیںچلا ادھر کو ہوں جس سمت کی ہوا بھی نہیں
گزر رہا ہوں قدم رکھ کے اپنی آنکھوں پرگئے دنوں کی طرف مڑ کے دیکھتا بھی نہیں
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیںچلا ادھر کو ہوں جس سمت کی ہوا بھی نہیں
گزر رہا ہوں قدم رکھ کے اپنی آنکھوں پرگئے دنوں کی طرف مڑ کے دیکھتا بھی نہیں
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئیآئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی
سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاںروح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہےہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیںمیں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے