9 اشعار

میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے

Main dastaan-e-ishq hooN tehreer kar mujhe

میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے

«میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

میں داستانِ عشق ہوں تحریر کر مُجھےکاغذ پے رنگ بکھیر کے تصویر کر مُجھے

بھر دے میرے وجُود میں پڑتی ہوئی دراڑآکر نئے سِرے سے ہی تعمیر کر مُجھے

پھر راہگزارِ نیند میں آنکھیں بِچھا کبھیپھر سے حسین خواب کی تعبیر کر مُجھے

رکھ کر خیالِ یار کی تحویل میں سداتا عُمر اُسکی یاد کی زنجیر کر مُجھے

اپنے سبھی غموں کا مداوا بنا مُجھےمرہم لگا کے زخم پے تاثیر کر مُجھے

میں آشکارِ اُلجھنِ حیات بھی تو ہوںکُچھ درد مُجھ سے بانٹ کے تدبیر کر مُجھے

تُو شہنشاہِ سلطنتِ حُسن ہی سہیآ جیت لے یہ دل میرا جاگیر کر مُجھے

اس کاروانِ زیست میں مجھکو تیاگ دےپھر اِک نئے جہان میں تسخیر کر مُجھے

سائرہ راحیل خان

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں