انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کا
کلام: خواجہ میر درد
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کازخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا
زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکسروشن ہوا ہے نام تو اس رو سیاہ کا
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
انداز وہ ہی سمجھے مرے دل کی آہ کازخمی جو کوئی ہوا ہو کسی کی نگاہ کا
زاہد کو ہم نے دیکھ لیا جوں نگیں بہ عکسروشن ہوا ہے نام تو اس رو سیاہ کا
مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہےیہ محبت نہیں ہے آفت ہے
لوگ کہتے ہیں عاشقی جس کومیں جو دیکھا بڑی مصیبت ہے
میں نے کمرے میں جو تصویر لگائی ہوئی ہےوہ تری یاد کی پِنسَل سے بنائی ہوئی ہے
برف میں دفن جہاں کی تھی محبّت تم نےمیں نے مدّت سے وہاں آگ جلائی ہوئی ہے