15 اشعار

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

Abas hai naaz-e-istaghna pe kal ki kya khabar kya ho

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

«عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہوخدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہونہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو

جہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میںرسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو

نہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام میں ہے زہر یا امرتتمہارے ہاتھ سے اندیشۂ نفع و ضرر کیا ہو

مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوںیہ سچ ہے نازنیں ہو خوب صورت ہو مگر کیا ہو

شگوفے دیکھ کر مٹھی میں زر کو مسکراتے ہیںکہ جب عمر اس قدر کوتاہ رکھتے ہیں تو زر کیا ہو

رہا کرتی ہے یہ حیرت مجھے زہد ریائی پرخدا سے جو نہیں ڈرتا اسے بندہ کا ڈر کیا ہو

کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میںکہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

کہا میں نے کہ ہے سوز جگر اور اف نہیں کرتاکہا اس کی اجازت ہی نہیں پھر نوحہ گر کیا ہو

کہا میں نے کہ دے اس کو اجازت آہ کرنے کیکہا اس نے بھڑک اٹھے اگر سوز جگر کیا ہو

کہا میں نے کہ آنسو آنکھ کا لیکن نہیں تھمتاکہا آنکھیں کوئی تلووں سے مل ڈالے اگر کیا ہو

کہا میں نے قدم بھر پر ہے وہ صورت دکھا آؤکہا منہ پھیر کر اتنا کسی کو درد سر کیا ہو

کہا میں نے اثر مطلق نہیں کیا سنگ دل ہے توکہا جب دل ہو پتھر کا تو پتھر پر اثر کیا ہو

کہا میں نے جو مر جائے تو کیا ہو سوچ تو دل میںکہا ناعاقبت اندیش نے کچھ سوچ کر کیا ہو

کہا میں نے خبر بھی ہے کہ دی جاں اس نے گھٹ گھٹ کرکہا مر جائے چپکے سے تو پھر مجھ کو خبر کیا ہو

— نظم طباطبائی