15 اشعار

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر

Ehsaan le na himmat-e-mardana chhod kar

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر

«احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کررستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کر

مرنے کے بعد پھر نہیں کوئی شریک حالجاتا ہے شمع کشتہ کو پروانہ چھوڑ کر

ہونٹوں پہ آج تک ہیں شب عیش کے مزےساقی کا لب لیا لب پیمانہ چھوڑ کر

افعی نہیں کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہےجاتے کہاں ہو آئینہ و شانہ چھوڑ کر

طول امل پہ دل نہ لگانا کہ اہل بزمجائیں گے ناتمام یہ افسانہ چھوڑ کر

لبریز جام عمر ہوا آ گئی اجللو اٹھ گئے بھرا ہوا پیمانہ چھوڑ کر

اس پیر زال دہر کی ہم ٹھوکروں میں ہیںجب سے گئی ہے ہمت مردانہ چھوڑ کر

پہروں ہمارا آپ میں آنا محال ہےکوسوں نکل گیا دل دیوانہ چھوڑ کر

اترا جو شیشہ طاق سے زاہد کا ہے یہ حالکرتا ہے رقص سجدۂ شکرانہ چھوڑ کر

یہ سمعۂ و ریا تو نشانی ہے کفر کیزنار باندھ سبحۂ صد دانہ چھوڑ کر

رندان مے کدہ بھی ہیں اے خضر منتظربستی میں آئیے کبھی ویرانہ چھوڑ کر

احسان سر پہ لغزش مستانہ کا ہواہم دو قدم نہ جا سکے مے خانہ چھوڑ کر

وادی بہت مہیب ہے بیم و امید کادیکھیں گے شیر پر دل دیوانہ چھوڑ کر

رو رو کے کر رہی ہے صراحی وداع اسےجاتا ہے دور دور جو پیمانہ چھوڑ کر

توبہ تو کی ہے نظمؔ بنا ہوگی کس طرحکیوں کر جیو گے مشرب رندانہ چھوڑ کر

— نظم طباطبائی