15 اشعار

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر

Hansi mein wo baat main ne keh di ke reh gaye aap dang ho kar

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر

«ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کرچھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کر

ہمیشہ کوچ و مقام اپنا رہا ہے خضر رہ طریقترکا تو میں سنگ میل بن کر چلا تو آواز چنگ ہو کر

نہ توڑتے آرسی اگر تم تو اتنے یوسف نظر نہ آتےیہ قافلہ کھینچ لائی سارا شکست آئینہ زنگ ہو کر

شباب و پیری کا آنا جانا غضب کا پر درد ہے فسانہیہ رہ گئی بن کے گرد حسرت وہ اڑ گیا رخ سے رنگ ہو کر

جو راز دل سے زباں تک آیا تو اس کو قابو میں پھر نہ پایازباں سے نکلا کلام بن کر کماں سے چھوٹا خدنگ ہو کر

غضب ہے بحر فنا کا دھارا کہ مجھ کو الجھا کے مارا مارانفس نے موجوں کا جال بن کر لحد نے کام نہنگ ہو کر

ملا دل نا حفاظ مجھ کو تو کیا کسی کا لحاظ مجھ کوکہیں گریباں نہ پھاڑ ڈالیں جناب ناصح بھی تنگ ہو کر

جو اب کی مینائے مے کو توڑا چلے گی تلوار محتسب سےلہو بھی رندوں کا دیکھ لینا بہا مئے لالہ رنگ ہو کر

نہ ضبط سے شکوہ لب تک آیا نہ صبر نے آہ کھینچنے دیرہا دہن میں وہ قفل بن کر گرایا چھاتی پہ سنگ ہو کر

سمجھ لے صوفی اگر یہ نکتہ ہے ایک بزم سماع ہستیتو نو پیالے یہ آسماں کے بجیں ابھی جل ترنگ ہو کر

بھلا ہو افسردہ خاطری کا کہ حسرتوں کو دبا کے رکھابچا لیا ہرزگی سے اس نے لحاظ ناموس و ننگ ہو کر

جگر خراشی سے پائی فرصت نہ سینہ کاوی سے ناخنوں نےگلا گریباں نے گھونٹ ڈالا جنوں کی شورش سے تنگ ہو کر

بدل کے دنیا نے بھیس صدہا اسے ڈرایا اسے لبھایاکبھی زن پیر زال بن کر کبھی بت شوخ و شنگ ہو کر

اٹھے تھے تلوار کھینچ کر تم تو پھر تأمل نہ چاہئے تھاکہ رہ گئی میرے دل کی حسرت شہید تیغ درنگ ہو کر

جو ولولے تھے وہ دب گئے سب ہجوم لیت و لعل میں حیدرؔجو حوصلے تھے وہ دل ہی دل میں رہے دریغ و درنگ ہو کر

— نظم طباطبائی