15 اشعار

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

Is waaste adam ki manzil ko dhundte hain

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

«اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیںمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیں

یہ دل کے پار ہو کر پھر دل کو ڈھونڈتے ہیںتیر نگاہ اس کے بسمل کو ڈھونڈتے ہیں

اک لہر میں نہ تھے ہم کیوں اے حباب دیکھایوں آنکھ بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں

طرز کرم کی شاہد ہیں میوہ دار شاخیںاس طرح سر جھکا کر سائل کو ڈھونڈتے ہیں

ہے وصل و ہجر اپنا اے قیس طرفہ مضموںمحمل میں بیٹھے ہیں اور محمل کو ڈھونڈتے ہیں

طول امل کا رستہ ممکن نہیں کہ طے ہومنزل پہ بھی پہنچ کر منزل کو ڈھونڈتے ہیں

حسرت شباب کی ہے ایام شیب میں بھیمعدوم کی ہوس ہے زائل کو ڈھونڈتے ہیں

اٹھتے ہیں ولولے کچھ ہر بار درد بن کرکیا جانیے جگر کو یا دل کو ڈھونڈتے ہیں

زخم جگر کا میرے ہے رشک دوستوں کومرتا ہوں میں کہ یہ کیوں قاتل کو ڈھونڈتے ہیں

اہل ہوس کی کشتی یک بام و دو ہوا ہےدریائے عشق میں بھی ساحل کو ڈھونڈتے ہیں

آیا جو رحم مجھ پر اس میں بھی چال ہے کچھسینہ پہ ہاتھ رکھ کر اب دل کو ڈھونڈتے ہیں

کرتے ہیں کار فرہاد آساں زمین میں بھیمشکل پسند ہیں ہم مشکل کو ڈھونڈتے ہیں

اے خضر پئے خجستہ بہر خدا کرم کربھٹکے ہوئے مسافر منزل کو ڈھونڈتے ہیں

دل خواہ تیرے عشوے دل جو ترے اشارےوہ دل ٹٹولتے ہیں یہ دل کو ڈھونڈتے ہیں

اے نظمؔ کیا بتائیں حج و طواف اپناکعبے میں بھی کسی کی محمل کو ڈھونڈتے ہیں

— نظم طباطبائی