21 اشعار

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر

Junoon ke walwale jab ghut gaye dil mein nihan ho kar

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر

«جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کرتو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کر

کچھ آگے بڑھ چلے سامان راحت لا مکاں ہو کرفلک پیچھے رہا جاتا ہے گرد کارواں ہو کر

کسی دن تو چلے اے آسماں باد مراد ایسیکہ اتریں کشتئ مے پر گھٹائیں بادباں ہو کر

نہ جانے کس بیاباں مرگ نے مٹی نہیں پائیبگولے جا رہے ہیں کارواں در کارواں ہو کر

وفور ضبط سے بیتابیٔ دل بڑھ نہیں سکتیگلے تک آ کے رہ جاتے ہیں نالے ہچکیاں ہو کر

گلو گیر اب تو ایسا انقلاب رنگ عالم ہےکہ نغمے نکلے منقار عنادل سے فغاں ہو کر

جو ہو کر ابر سے مایوس خود سینچے کبھی دہقاںجلا دیں کھیت کو پانی کی لہریں بجلیاں ہو کر

جہاں میں واشد خاطر کے ساماں ہو گئے لاشےجگہ راحت کی نا ممکن ہوئی ہے لا مکاں ہو کر

ہنسے کوئی نہ بجلی کے سوا اس دار ماتم میںاگر رہ جائے سارا کھیت کشت زعفراں ہو کر

الم میں آشیاں کے اس قدر تنکے چنے میں نےکہ آخر باعث تسکیں ہوے ہیں آشیاں ہو کر

گھٹائیں گھر کے کیا کیا حسرت فرہاد پر روئیںچمن تک آ گئیں نہریں پہاڑوں سے رواں ہو کر

دل شیدا نے پایا عشق میں معراج کا رتبہیہاں اکثر بتوں کے ظلم ٹوٹے آسماں ہو کر

جو ڈرتے ڈرتے دل سے ایک حرف شوق نکلا تھاوہ اس کے سامنے آیا زباں پر داستاں ہو کر

نکل آئے ہیں ہر اقرار میں انکار کے پہلوبنا دیتی ہیں حیراں تیری باتیں مکر یاں ہو کر

نزاکت کا یہ عالم پھول بھی توڑے تو بل کھا کرنہ جانے دل مرا کس طرح توڑا پہلواں ہو کر

تدرو و کبک پر ہنس کر اٹھے خود لڑکھڑاتے ہیںسبک کرتے ہیں ان کو پائنچے بار گراں ہو کر

گلا گھونٹا ہے ضبط غم نے کچھ ایسا کہ مشکل ہےکہ نکلے منہ سے آواز شکست دل فغاں ہو کر

پتہ اندیشۂ سالک نے پایا منزل دل کاتو پلٹا لا مکاں سے آسماں در آسماں ہو کر

ہوئی پھر دیکھیے آ بستن شادی و غم دنیاابھی پیدا ہوئے تھے رنج و راحت تو اماں ہو کر

جو نکلی ہوگی کوئی آرزو تو یہ بھی نکلے گاتمہارا تیر حسرت بن گیا دل میں نہاں ہو کر

اتر جائے گا تو او آفتاب حسن کوٹھے سےگرے گا سایۂ دیوار ہم پر آسماں ہو کر

— نظم طباطبائی