13 اشعار

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

Kis liye phirte hain ye shams o qamar donon saath

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

«کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھکس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھ

کیسی یارب یہ ہوا صبح شب وصل چلیبجھ گیا دل مرا اور شمع سحر دونوں ساتھ

بعد میرے نہ رہا عشق کی منزل کا نشاںمٹ گئے راہرو و راہ گزر دونوں ساتھ

اے جنوں دیکھ اسی صحرا میں اکیلا ہوں میںرہتے جس دشت میں ہیں خوف و خطر دونوں ساتھ

مجھ کو حیرت ہے شب عیش کی کوتاہی پریا خدا آئے تھے کیا شام و سحر دونوں ساتھ

اس نے پھیری نگۂ ناز یہ معلوم ہواکھنچ گیا سینے سے تیر اور جگر دونوں ساتھ

غم کو دی دل نے جگہ دل کو جگہ پہلو نےایک گوشے میں کریں گے یہ بسر دونوں ساتھ

اس کو روکوں میں الٰہی کہ سنبھالوں اس کوکہ تڑپنے لگے دل اور جگر دونوں ساتھ

ناز بڑھتا گیا بڑھتے گئے جوں جوں گیسوبلکہ لینے لگے اب زلف و کمر دونوں ساتھ

تجھ سے مطلب ہے نہیں دنیا و عقبیٰ سے غرضتو نہیں جب تو اجڑ جائیں یہ گھر دونوں ساتھ

بات سننا نہ کسی چاہنے والے کی کبھیکان میں پھونک رہے ہیں یہ گہر دونوں ساتھ

آندھیاں آہ کی بھی اشک کا سیلاب بھی ہےدیتے ہیں دل کی خرابی کی خبر دونوں ساتھ

کیا کہوں زہرہ و خورشید کا عالم اے نظمؔنکلے خلوت سے جوں ہی وقت سحر دونوں ساتھ

— نظم طباطبائی