6 اشعار

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

Kisi se bas ke ummeed-e-kushood-e-kaar nahin

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

«کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیںمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیں

جواب نامہ کا قاصد مزار پر لایاکہ جانتا تھا اسے تاب انتظار نہیں

یہ کہہ کے اٹھ گئی بالیں سے میری شمع سحرتمام ہو گئی شب اور تجھے قرار نہیں

جو تو ہو پاس تو حور و قصور سب کچھ ہوجو تو نہیں تو نہیں بلکہ زینہار نہیں

خزاں کے آنے سے پہلے ہی تھا مجھے معلومکہ رنگ و بوئے چمن کا کچھ اعتبار نہیں

غزل کہی ہے کہ موتی پروئے ہیں اے نظمؔوہ کون شعر ہے جو در شاہوار نہیں

— نظم طباطبائی