9 اشعار

کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ

Koi may de ya na de hum rind-e-be-parwa hain aap

کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ

«کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپ

غافل و ہشیار وہ تمثال یک آئینہ ہیںورطۂ حیرت میں ناداں آپ ہیں دانا ہیں آپ

کیوں رہے میری دعا منت کش بال ملکنالۂ مستانہ میرے آسماں پیما ہیں آپ

ہے تعجب خضر کو اور آب حیواں کی طلباور پھر عزلت گزین دامن صحرا ہیں آپ

منزل طول امل درپیش اور مہلت ہے کمراہ کس سے پوچھئے حیرت میں نقش پا ہیں آپ

حق سے طالب دید کے ہوں ہم بصیر ایسے نہیںہم کو جو کوتہ نظر سمجھیں وہ نا بینا ہیں آپ

گل ہمہ تن زخم ہیں پھر بھی ہمہ تن گوش ہیںبے اثر کچھ نالہ ہائے بلبل شیدا ہیں آپ

حرص سے شکوہ کروں کیا ہاتھ پھیلانے کا میںکہتی ہے وہ اپنے ہاتھوں خلق میں رسوا ہیں آپ

ہم سے اے اہل تنعم منہ چھپانا چاہئےدم بھرا کرتے ہیں ہم اور آئنہ سیما ہیں آپ

— نظم طباطبائی