20 اشعار

کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں

Kya karwan-e-hasti guzra rawa-rawi mein

کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں

«کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میں» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میںفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میں

تھے محو لالہ و گل کس کیف بے خودی میںزخم جگر کے ٹانکے ٹوٹے ہنسی ہنسی میں

یاران بزم عشرت ڈھونڈوں کہاں میں تم کوتاروں کی چھاؤں میں یا پچھلے کی چاندنی میں

ہر عقدہ میں جہاں کے پوشیدہ ہے کشاکشہے موج خندۂ گل پنہاں کلی کلی میں

زخموں میں خود چمک ہے اور اس پہ یہ ستم ہےرنگ پریدہ سے میں رہتا ہوں چاندنی میں

ہم کس شمار میں تھے پرسش جو ہم سے ہوتییہ امتیاز پایا آشوب آگہی میں

حکم قضا ہو جیسا سرزد ہو فعل ویسابندہ کا دخل بھی ہے پھر اس کہی بدی میں

رفتار سایہ کو ہے پست و بلند یکساںٹھوکر کبھی نہ کھائے راہ فروتنی میں

وجد آ گیا فلک کو غش آ گیا زمیں کودو طرح کے اثر تھے اک صوت سرمدی میں

تعبیر اس کی شاید ایک واپسیں نفس ہوجو خواب دیکھتے تھے ہم ساری زندگی میں

لائی حباب تک کو سیل فنا بہا کراک آہ کھینچنے کو اک دم کی زندگی میں

محشر کی آفتوں کا دھڑکا نہیں رہا ابسو حشر میں نے دیکھے دو دن کی زندگی میں

پہلو میں تو ہو اے دل پھر حسرتیں ہزاروںکس بات کی کمی ہے تیری سلامتی میں

پرسان حال وہ ہو اور سامنے بلا کرکیا جانیے زباں سے کیا نکلے بے خودی میں

تو ایک ظل ہستی پھر کیسی خود پرستیسایہ کی پرورش ہے دامان بے خودی میں

حائل بس اک نفس ہے محشر میں اور ہم میںپردہ حباب کا ہے فردا میں اور دی میں

آنکھیں دکھا رہی ہے دن سے مجھے شب غمآثار تیرگی کے ہیں دن کی روشنی میں

تو نے تو اپنے در سے مجھ کو اٹھا دیا ہےپرچھائیں پھر رہی ہے میری اسی گلی میں

سجدہ کا حکم مجھ کو تو نے تو اب دیا ہےپہلے ہی لکھ چکا ہوں میں خط بندگی میں

اے نظمؔ چھیڑ کر ہم تجھ کو ہوئے پشیماںکیا جانتے تھے ظالم رو دے گا دل لگی میں

— نظم طباطبائی