6 اشعار

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

Kya kahein kis se pyar kar baithe

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے

«کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھے» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھےاپنے دل کو فگار کر بیٹھے

صبر کی اک قبا جو باقی تھیاس کو بھی تار تار کر بیٹھے

آج پھر ان کی آمد آمد ہےہم خزاں کو بہار کر بیٹھے

وائے اس بت کا وعدۂ فرداعمر بھر انتظار کر بیٹھے

خود جو غم ہیں تو آئنہ حیراںکس غضب کا سنگھار کر بیٹھے

ہم تہی دست تجھ کو کیا دیتےجان تجھ پر نثار کر بیٹھے

— نظم طباطبائی