11 اشعار

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

Nidamat hai bana kar is chaman mein aashiyan mujh ko

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو

«ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کو» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کوملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کو

دکھائے جا روانی توسن عمر رواں مجھ کوہلال برق سے رکھ ہم رکاب و ہم عناں مجھ کو

بنایا ناتوانی نے سلیمان زماں مجھ کواڑا کر لے چلے موج نسیم بوستاں مجھ کو

دم صبح ازل سے میں نوا سنجوں میں ہوں تیرےبتایا بلبل سدرہ نے انداز فغاں مجھ کو

مری باتوں میں کیا معلوم کب سوئے وہ کب جاگےسرے سے اس لیے کہنی پڑی پھر داستاں مجھ کو

بہا کر قافلہ سے دور جسم زار کو پھینکاکہ موج سیل تھی بانگ درائے کارواں مجھ کو

یہ دل کی بے قراری خاک ہو کر بھی نہ جائے گیسناتی ہے لب ساحل سے یہ ریگ رواں مجھ کو

اڑائی خاک جس صحرا میں تیرے واسطے میں نےتھکا ماندہ ملا ان منزلوں میں آسماں مجھ کو

تصور شمع کا جس کو جلا دے ہوں وہ پروانہلگ اٹھی آگ دل میں جب نظر آیا دھواں مجھ کو

وہ جس عالم میں جا پہنچا وہاں میں کس طرح جاؤںہوا دل آپ سے باہر پنہا کر بیڑیاں مجھ کو

غبار راہ سے اے نظمؔ یہ آواز آتی ہےگئی اے عمر رفتہ تو کدھر پھینکا کہاں مجھ کو

— نظم طباطبائی