16 اشعار

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

Phiri hui meri aankhein hain tegh-zan ki taraf

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف

«پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرف» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرفچلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرف

بنایا توڑ کے آئینہ آئینہ خانہنہ دیکھی راہ جو خلوت سے انجمن کی طرف

رہ وفا کو نہ چھوڑا وہ عندلیب ہوں میںچھٹا قفس سے تو پرواز کی چمن کی طرف

گریز چاہئے طول امل سے سالک کوسنا ہے راہ یہ جاتی ہے راہزن کی طرف

سرائے دہر میں سوؤ گے غافلو کب تکاٹھو تو کیا تمہیں جانا نہیں وطن کی طرف

جو اہل دل ہیں الگ ہیں وہ اہل ظاہر سےنہ میں ہوں شیخ کی جانب نہ برہمن کی طرف

جہان حادثہ آگین میں بشر کا ورودگزر حباب کا دریائے موجزن کی طرف

اسی امید پہ ہم دن خزاں کے کاٹتے ہیںکبھی تو باد بہار آئے گی چمن کی طرف

بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کیسنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف

گواہ کون مرے قتل کا ہو محشر میںابھی سے سارا زمانہ ہے تیغ زن کی طرف

خبر دی اٹھ کے قیامت نے اس کے آنے کیخدا ہی خیر کرے رخ ہے انجمن کی طرف

وہ اپنے رخ کی صباحت کو آپ دیکھتے ہیںجھکے ہوئے گل نرگس ہیں یاسمن کی طرف

تمام بزم ہے کیا محو اس کی باتوں میںنظر دہن کی طرف کان ہے سخن کی طرف

اسیر ہو گیا دل گیسوؤں میں خوب ہواچلا تھا ڈوب کے مرنے چہ ذقن کی طرف

یہ میکشوں کی ادا ابر تر بھی سیکھ گئےکنار جو سے جو اٹھے چلے چمن کی طرف

زہے نصیب جو ہو کربلا کی موت اے نظمؔکہ اڑ کے خاک شفا آئے خود کفن کی طرف

— نظم طباطبائی