14 اشعار

پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا

Pursish jo hogi tujh se jallad kya karega

پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا

«پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گالے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گا

ہوں دام میں پر افشاں اور سادگی سے حیراںکیوں تیز کی ہیں چھریاں صیاد کیا کرے گا

ظالم یہ سوچ کر اب دیتا ہے بوسۂ لبجب ہونٹ سی دیئے پھر فریاد کیا کرے گا

زنجیر تار داماں ہے طوق اک گریباںزور جنوں نہ کم ہو حداد کیا کرے گا

ہم ڈوب کر مریں گے حسرت رہے گی تجھ کوجب خاک ہی نہ ہوگی برباد کیا کرے گا

یعقوب قطع کر دیں امید وصل دل سےیوسف سا بندہ کوئی آزاد کیا کرے گا

دل لے کے پوچھتا ہے تو کس کا شیفتہ ہےبھولا ابھی سے ظالم پھر یاد کیا کرے گا

اے خط بیاض عارض درکار ہے جو تجھ کوتحریر حسن کی کچھ روداد کیا کرے گا

کنج قفس سے اک دن ہوگی رہائی اپنیمر جائیں گے تو آخر صیاد کیا کرے گا

مثل سپند دل ہے بیتاب سوز غم میںرہ جائے گا تڑپ کر فریاد کیا کرے گا

اے شیخ بھر گیا ہے کیوں وعظ کی ہوا میںریش سفید اپنی برباد کیا کرے گا

ظلم و ستم سے بھی اب ظالم نے ہاتھ کھینچااس سے ستم وہ بڑھ کر ایجاد کیا کرے گا

ازبسکہ بے ہنر ہوں میں ننگ معترض ہوںمضموں پہ میرے کوئی ایراد کیا کرے گا

اے نظمؔ جس کو چاہے وہ دے بہشت دوزخنمرود کیا کرے گا شداد کیا کرے گا

— نظم طباطبائی