11 اشعار

اداس شام کی ایک نظم

Udaas shaam ki ek nazm

اداس شام کی ایک نظم

«اداس شام کی ایک نظم» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہےکہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے

تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گاتو سوچ لوں گی

رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہےہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو گزر نہ پائے تو یہ نہ کہنا

کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیںاگر کوئی شام یوں بھی آئے کہ جس میں ہم تم لگیں پرائے

تو جان لیناکہ شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں

تمہاری خواہش کی مٹھیاں بے دھیانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرناکہ میری چاہت کے جگنوؤں نے

تمہارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خواہشوں میںبڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے

مگر یہ خدشے، یہ وسوسے تو تکلفاً ہیںجو بے ارادہ سفر پہ نکلیں

تو یہ تو ہوتا ہے یہ تو ہوگاہم اپنے جذبوں کو منجمد رائیگانیوں کے سپرد کر کے

یہ سوچ لیں گےکہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی

سفر کا آغاز کر چکا تھا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں