5 اشعار

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

Mohabbatain jab shumar karna toh saazishein bhi shumar karna

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

«محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا» نوشی گیلانی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرناجو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا

جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیںمگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا

جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لیناجو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا

یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیںجب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا

تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سےجو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

— نوشی گیلانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں