7 اشعار

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

Ab bhala chhod ke ghar kya karte

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

«اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتے

تیری مصروفیتیں جانتے ہیںاپنے آنے کی خبر کیا کرتے

جب ستارے ہی نہیں مل پائےلے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے

وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھاسائے پھیلا کے شجر کیا کرتے

خاک ہی اول و آخر ٹھہریکر کے ذرے کو گہر کیا کرتے

رائے پہلے سے بنا لی تو نےدل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

عشق نے سارے سلیقے بخشےحسن سے کسب ہنر کیا کرتے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں