ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
کلام: پروین شاکر
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہمملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہمملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا
اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتےشام کے وقت سفر کیا کرتے
تیری مصروفیتیں جانتے ہیںاپنے آنے کی خبر کیا کرتے
ان سے نین ملا کے دیکھویہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو
دوری میں کیا بھید چھپا ہےاس کا کھوج لگا کے دیکھو