13 اشعار

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

Ab itni saadgi laayen kahan se

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

«اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سےزمیں کی خیر مانگیں آسماں سے

اگر چاہیں تو وہ دیوار کر دیںہمیں اب کچھ نہیں کہنا زباں سے

ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتاتو کشتی کام لے کیا بادباں سے

بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیںپتا منزل کا میر کارواں سے

توجہ برق کی حاصل رہی ہےسو ہے آزاد فکر آشیاں سے

ہوا کو رازداں ہم نے بنایااور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے

ضروری ہو گئی ہے دل کی زینتمکیں پہچانے جاتے ہیں مکاں سے

فنا فی العشق ہونا چاہتے تھےمگر فرصت نہ تھی کار جہاں سے

وگرنہ فصل گل کی قدر کیا تھیبڑی حکمت ہے وابستہ خزاں سے

کسی نے بات کی تھی ہنس کے شایدزمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے

میں اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتیاگر ہوتا وہ دشمن کی کماں سے

جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیںانہیں تکلیف کیوں پہنچے خزاں سے

جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیںانہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

— پروین شاکر